اسلام پائندہ مذہب ہے اور مسلمان ایک زندہ قوم ہے

زین شمسی

Asia Times Desk

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا….
اسلام پائندہ مذہب ہے اور مسلمان ایک زندہ قوم ہے ۔
گھوڑے اور تلواروں کے قدیم دور میں دشت تو دشت کیا دریا بھی نہ چھوڑے اس نے اور سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں بھی وہ اسی طرح جیتے ہیں جیسے ان تمام ایجادات کے سرغنہ بھی وہی ہیں۔ وہ پریشان نہیں ہوتے۔ محمود غزنوی سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک اور اخلاق سے صبغت اللہ تک کا رویہ ان کے لیے ایک ہی جیسا ہے۔ کچھ لمحوں کے لئے پزمردہ ہوتے ہیں اور پھر زندہ دلی کے ساتھ جینا شروع کر دیتے ہیں۔ غیر قومیں ان پر ہنستی بھی ہیں اور ان سے خائف بھی رہتی ہیں کہ سب کچھ چھین لیے جانے کے بعد بھی ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کیسے ؟
یقین جانئے کہ مظالم کے جتنے پہاڑ مسلمانوں پر توڑے گئے ، اگر کوئی دوسری قوم ہوتی تو وہ خودکشی شروع کر دیتی یا علم بغاوت لے کر پہاڑوں تک سےٹکرا جاتی ، لیکن شہنشاہیت کے زمانہ سے مارکسیت اور جمہوریت تک تحمل ، صبر اور برداشت کا جو مظاہرہ مسلمانوں نے کیا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔
یہ معجزہ ہے، اعتقاد ہے اس دین الہیٰ پر کہ ، جو قبرستان سے گذرتے ہوئے مردوں کو بھی سلام کرنا سکھاتاہے۔
بھائی کلیم سر ملے تو انہوں نے کہا بتائو اگر تمہارے پاس پیسے ہوتے تو کیا تم مسلمانوں کی بستی میں رہتے ، ان کے سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان جس طرح رہتے ہیں ، جس طرح کھاتے ہیں ، جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کرتے ہیں ، جس طرح لڑتے جھگڑتے ہیں کیا ، اسلام نے انہیں اسی طرح کی تربیت دی ہے ، قطعی نہیں ، بالکل نہیں۔ تو پھر وہ ویسے کیوں ہوگئے۔ ان کے سوال کو میں نے مزید وسعت یہ کہتے ہوئے دی کہ عید الاضحی کے دن میرے جے این یو کے ایک ساتھی سچن چودھری میرے گھر اس شرط پر آئے کہ میں انہیں سیخ کباب کھلائوں گا۔ کالندی کنج پہنچ کر فون کیا کیسے آئوں۔ میں نے ان سے کہا آپ وہیں ٹھہریں ، میں لینے آجاتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ انجان آدمی ، ہندو اور عید الاضحی کا دن۔ جگہ جگہ بھینس کی آنتیں اور خون کا انبار۔ دوسرا خدشہ یہ تھا کہ ان کی گاڑی سے اگر کسی کا بال بھی ٹچ ہو جاتا تو آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی بستی میں رہنے والے تمام لوگ ہیرو ہی ہوتے ہیں۔ ٹرک کو مڑنا پڑ جاتا ہے ، لیکن موٹر سائیکل کو سیدھی کرنا ان کے وقار کے خلاف ہوتا ہے۔ خیر میں انہیں اپنے گھر لے کر آیا۔ راستہ کے نظارے اور بے ترتیب مکانوں کے مظاہرے دیکھ کر انہوں نے کہا ’ یار شمسی کہاں آکر رہنے لگے ہو‘ ۔ چلو دوارکا میں تمہارے لیے گھر ڈھونڈتا ہوں۔ میں نے کہا یار مجھے کیا مزہ آتا ہے یہاں پر ، لیکن ماحول ایسا بنتا جا رہا ہے کہ دوارکا میں کب تم لوگ مجھے مار دوگے پتہ بھی نہیں چلے گا۔ وہ ہنسے اور انہوں نے کہا چلو مار ہی دیں گے ،مگر یہاں تو تمہیں روز ہی مرنا پڑتا ہے ، اس کا کیا۔‘
اب میں انہیں کیا بتا تا کہ ہم مسلمان وہیں پر رہتے ہیں ، جہاں مسجدیں ہوتی ہیں ، خواہ ہم نمازی ہوں یا نہ ہو۔ اور ہم مسلمان وہیں پر رہنا پسند کرتے ہیں جہاں گوشت کی دکانوں پر لوتھڑے ٹنگے ہوتے ہیں ، بھلے ہی ہم سبزیاں کیوں نہ کھاتے ہوں اور ہاں بغل میں قبرستان بھی ہونا چاہیے ، اسپتال ہو یا نہ ہو۔ گلیوں میں مدرسے بھی ضروری ہیں ، چاہے اسکول ہوں یا نہ ہو۔ ہم لوگ ایسے ہی ہیں۔ مسجد کی بات آئی تو کلیم سر نے کہا یار کوئی مولوی ہو تو بتائو ۔ ایکو ولیج میں مسجد بنوانی ہے۔ زمین بھی مل جائے گی ، صرف دھیان دینا کہ جو مولوی ہو واقعی مولوی ہو ۔ میں نے کہا لیجئے اب یہ واقعی مولوی کیا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا بات آگے مت برھائو کوئی معقول دیندار آدمی کو تلاش کرو ، مجھ سے ملوائو ، کالونی میں مسجد ہو جائے گی تو بہت اچھا کام ہوگا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے دیکھتا ہوں۔ تو مجھے ایسے ایک دیندار مولوی کی ضرورت ہے جو مسجد کی ساری ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہو۔ ان کی کمائی بھی ہو سکتی ہے ، تاہم پاش کالونیوں میں مسلمانوں کے فلیٹس کم ہوتے ہیں ، لیکن چندہ وہ لوگ دل کھول کر دیتے ہیں۔ ان باکس میں خواہشمند حضرات اپنا موبائل نمبر چھوڑ سکتے ہیں۔
زندہ دلی کی بات جو میں نے کی تھی وہ یوں تھی کہ بھائی خان رضوان اپنی باتوں سے گھیر لیتے ہیں ، جیسے ہی مجھے دیکھا ، بس شروع ہوگئے ، شمسی صاحب جامعہ چلیے۔ آپ کا انتظار کئی لوگ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا شام میں وہاں جاکرکیا کروں گا۔ دن میں چلتے تو پروفیسران سے ملاقات ہو جاتی ،ا ن کے ساتھ مل بیٹھتے تو پتہ چلتا کہ کس پراپرٹی کا کیا بھائو چل رہا ہے۔ اب تو سب کے سب چلے گئے ہوں گے انہوں نے کہا چلیے نا مستقبل کے پروفیسران کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ تو ہم بھیا جامعہ کے لان میں پہنچ گئے۔ دو تین لوگ پہلے موجود تھے اور ایک کسی سید صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ آئے اس کے بعد ایک اور آئے اور اس کے بعد پھر ایک اور آئے۔ میں لان میں ہی لیٹ گیا کہ لیٹنا میرا دلچسپ مشغلہ ہے۔ میزبان نے کالی چائے پلائی ، پھر بسکٹ اور نمکین بھی منگوائی اس کے بعد بولے شمسی صاحب آپ ہمارے جامعہ میں آئے ہیں ، چلیے آپ کو پپڑی چاٹ کھلاتا ہوں ۔ انہوں نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالے جام کا بھی آرڈر دے دیا۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کس شعبہ مین لیکچرار ہیں ، انہوں نے کہا ’اردو۔‘ میں نے برجستہ کہا ہو ہی نہیں سکتا اردو کا پروفیسر اور اتنا فراخ دل۔ بہر حال کانوں میں بہترین موسیقی کی آواز آرہی تھی ، پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے۔ سید صاحب نے کہا دراصل یونیورسٹی کا یک کلچر گروپ ہے ، جذبہ ، اسی کا پروگرام چل رہا ہے۔ انہوں نے میری جانکاری میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تعلیمی میلہ میں لوگوں کی دلچسپی نہیں رہتی لیکن کلچر کے نام پر جتنی بھی بدتمیزیاں ہو جائیں طلبا کی شرکت لازمی ہو جاتی ہے۔ انصاری آڈیٹوریم میں قوالی کا پروگرام ہو رہا تھا۔ قوال کو یہ شکایت تھی کہ انہیں اچھا مائیک دستیاب نہیں کرایا گیا ہے ، اس لئے انہوں نے بمشکل ’دما دم مست قلندر‘ اور’ بھر دو جھولی‘ سنائی اور اپنے ہارمونیم کو لپیٹنے لگے ، دوران قوالی طلبا اور طالبات کی تالیوں کی گونج سے آڈیٹوریم ہنگامہ خیز بنا رہا اور میں ان کی خوشیاں دیکھ کر یہی سوچتا رہا۔ واقعی اپنی قوم کتنا زندہ دل ہے ، تھوڑی سے بھی خوشی ملتی ہے تو اس میں جینے کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ جامعہ کے اقلیتی کردار کی بحالی کی فکر،عراق ، شام ، افغانستان سمیت تمام اسلامی ممالک میں چل رہی سورشیں اور یہود ، ہنود اور نصاریٰ کی سازشیں کو جھیلتے ہوئے بھی واقعی اب تک اس نے ہنسنا ، مسکرانا اور گنگنانا نہیں چھوڑا ہے۔
اگرہمارے اکابرین اور قائدین اپنی قوم کی انگلی کو مضبوطی سے تھام لیں تو اس زندہ قوم کو راستہ ہی نہیں منزل بھی ضرور مل جائے گی ۔ ویسے تو اللہ نگہبان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *