آپ بھی میرے ساتھ سوچیں

زین شمسی

admin

 

آج کچھ بھی نہیں لکھوں گا ، سوچوں گا اور چاہتا ہوں کہ آپ بھی میرے ساتھ سوچیں۔

سوچتے ہیں کہ مودی کا عروج کیوں ہوا؟

عروج اس لیے ہوا کہ گجرات ہوا اور خوفناک نسل کشی ہوئی۔ ہندوتو کو مودی کی شکل میں ایک امید کی کرن نظر آئی اور اس نے انہیں علاقائی سیاست سے نکال کر قومی سیاست میں اتار دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ہندو وادی شبیہ نے ملک کے ان اندھ بھکتوں کو متاثر کیا جن کی دلی تمنا تھی کہ بھارت ہندوراشٹر بنے ۔

اگر عروج کی بنیادی صفت یہی ہے تو پھر ان کا زوال اس طرح تو ممکن ہی نہیں ہے کہ انہیں مزید ہندوتووادی قرار دیا جائے۔ اگر یہی حل ہے تو پھر مودی کبھی نہیں ہاریں گے کہ عام عوام کو لگے گا کہ ہم نے جس کام پر انہیں لگایا ہے وہ اسے بخوبی انجام دے رہے ہیں ، تو ان کا تو قد بڑھتا ہی چلا جائے گا۔

مودی کا زوال دیکھنا چاہتے ہیں تو سوچئے

کیوں نہ مودی کو سیکولر لیڈر قرار دیا جائے۔ اس بات کو مشتہر کیا جائے کہ وہ ایک سیکولر ملک کے سیکولر وزیراعظم ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات آپ سوچ نہ پائیں ، لیکن جیسے ہی آپ سوچنے لگیں گے ، ویسے ہی ان کی عوامی حمایت ختم ہو جائے گی۔ اسے مشتہر کئے جانے کے کئی موقع آئے تھے۔

جب وہ 125کروڑ عوام کی بات کرتے ہیں تو آپ اس کی تعریف کیجئے کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں سوچتے ہیں ، خواہ وہ اس کے لیے کچھ کر رہے ہوں یا نہ کر رہے ہوں۔

جب وہ اذان کی آواز کے دوران اپنی تقریر روک دیتے ہیں تب مشتہرکرنا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی روایت ، تہذیب اور مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ جیسے ہی مسلمانوں کا کوئی قائد انہیں اس بات پر شاباشی دیتا ویسے ہی ان کے لوگوں کی آنکھیں ترچھی ہو تیں کہ ہم نے انہیں کس لیے پی ایم بنایا اور وہ کیا کرنے لگے۔

جب وہ پاکستان گئے تھے تو بجائے ان کی تنقید کے انہیں اس بات کے لیے مبارک باد دیا جانا چاہیے تھا کہ وہ ہندوستان کے دیرینہ حریف کو اپنا بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان یوں بھی اندھ بھکتوں کے لیے ہاٹ کیک ہے ، انہیں جب لگتا کہ ہم تو یہاں کے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی ترکیب سوچ رہے ہیں اور یہاں مودی پاکستان سے رشتہ استوار کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے ہیں۔

یقیناً اگر ایسا کیا جاتا تو آر ایس ایس ان کی طرف سے بدظن ہوجاتا اور بی جے پی کا کچھ بگڑتا یا نہ بگڑتا مودی کا تو بگڑ ہی جاتا۔

سیاست کا جواب سیاست سے ہی دینا چاہیے تھا، جذبات سے نہیں ۔ سیاست داں جذبات کا ہی استعمال کرتے ہوئے اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ وہ آپ کے جذبات پر سیاست کر جاتے ہیں، لیکن اب شاید یہ سب سوچنے کا وقت نہیں ہے ۔ مودی نے 4سال نکال لئے ہیں اور اب الیکشن میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

چلئے کچھ اور سوچتے ہیں۔

سوچتے ہیں کہ دہلی سلطنت اور مغلیہ حکومت کے دوران یعنی محمود غزنوی سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک اکثریت میں رہتے ہوئے ہندوئوں نے تقریباً700سال کس طرح کامیابی کے ساتھ نکال لئے۔

کیا انہوں نے کوئی مزاحمت کی۔ جلسے جلوس کئے ، دیش بچائو ، دھرم بچائو کے نعرے لگائے ۔ کسی سے کوئی کنفرنٹیشن کیا۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کہیں کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا جب ہندوئوں نے مسلم حکمراں کے خلاف کوئی جلوس نکالا۔ تاہم کچھ مراٹھے اور سکھوں کی دبش ہوتی تھی ، جو حکومت چھیننے یا یا اپنے علاقوں میں بالادستی کے لیے کی جاتی تھی ، جسے گھوڑوں کی ٹاپوں اور توپوں کی چنگھاڑ سے خاموش کرا دیا جاتا تھا، لیکن اتنی بڑی ہندو آبادی سماجی طور پر کہیں کسی طرح کی مزاحمت کرتی نظر آئی؟

غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے پھرپور طور پر مصلحت سے کام کیا ، وہ خوفزدہ نہیں تھے ، بلکہ خود کو مضبوط کر رہے تھے۔

وہ بادشاہوں کے یہاں منشی تھے۔ وہ اپنے علم و ادب کو بڑھا رہے تھے۔تلسی داس کی رام چرت مانس اور مہابھارت کے ترجمے اسی اکبر کے دور کے ہیں۔ یہی نہیں ان کے جال میں آکر اکبر کو بھی دین الہیٰ جیسا الگ مذہب چلانا پڑا۔ اورنگ زیب کے زمانہ میں دارا شکوہ کی پذیرائی میں ہندو پیش پیش رہے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہے ، لیکن

انہوں نے اپنی زبان کو نہیں چھوڑا۔ اردو کو اپنے گھر میں لے کر نہیں آئے اور نہ ہی اپنی ہانڈی میں گوشت کا ٹکڑا ڈالا۔ وہ مفاہمت اور مصلحت کے ساتھ اپنی تہذیب کو بچا لے آئے۔

اور اب خود کے اور اپنی قوم کے بارے میں سوچئے۔

آزادی کے بعدہم کتنی تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہوئےکہ آج یہ حالت ہے کہ ہم بے وقعتی کا شکار ہو گئے۔ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو رہی ہوگی۔

پہلی وجہ کہ پاکستان بن جانے کے بعد ہم سیاسی طور پر کمزور ہو گئے تھے

دوسری وجہ ہمیں تعلیم کی طرف راغب کرنے والے نہ ہی قومی رہنما ہوئے اور نہ ہی ملی رہنما

ہمیں مین اسٹریم کی سیاست سکھانے والے بھی کوئی نہ رہے۔

ہم سبھی سے پنگا لیتے رہے اور اپنی جان و مال کی حفاظت نہیں کر پائے۔

ہم نے دوسروں کے کہنے پر اپنے دشمن منتخب کئے اور دھوکہ کھاتے رہے۔

آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہرچند کہ ہیں مگر نہیں ہیں۔

تو اب کیا؟ صرف بی جے پی کے ہٹا دینے سے آپ ترقی کر جائیں گے۔ 70سال بعد تو بی جے پی آئی ہے۔ اس سے پہلے آپ کو کون ہانک رہا تھا۔

چلئے اب کل کے بارے میں بھی سوچئے۔ دین بچائو ، دیش بچائو کا جلسہ ہونے والا ہے بہار کے گاندھی میدان میں۔ پوسٹر اور ہورڈنگ پر نتیش کمار موجودہیں اور چندے کی رسید بھی خوب دکھائی دے رہی ہے۔

پہلے بھی سوچا تھا کہ دین کو کس سے بچایا جا رہا ہے اور دیش کو کس سے بچایا جا رہا ہے۔ اگر ہورڈنگ پر نتیش کمار ہیں تو نتیش کمار مودی کے ساتھ ہیں تو ایک طرف آپ نے یہ پیغام دیا کہ ہمیں دیش کو مودی سے بچانا ہے تو پھر نتیش کا وہاں کیا کام؟

رہی دین بچانے کا کام؟ تو اولاً دین اللہ کا ہے اور قائم و دائم ہے ، اسے کون ختم کر سکتا ہے۔ دین سے مراد اگر شریعت ہے تو اس کی لڑائی کورٹ سے شروع ہوئی ہے تو اسے کورٹ میں لڑیئے۔ گاندھی میدان میں کیا لڑیں گے۔ دوسری بات جب سے یہ تحریک چلی ہے ، ایک تو اس کا کوئی اثر سماج پر نہیں پڑ رہا ہے اور نہ ہی قومی میڈیا اس جانب توجہ دے رہا ہے۔ اردو کے وہی اخبار اس خبر کی نوٹس لے رہے ہیں جسے اشتہار کے نام پر 500سے 1000روپے مل رہے ہیں۔ اس جلسے جلوس کا تو کوئی نتیجہ ہی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔

مودی نے کہہ دیا کہ مسلم عورتیں مشکل میں ہیں اور وہ ہمارے ساتھ ہیں تو انہیں گھروں سے نکال کر سڑکوں پر لا کر یہ ثابت کرنا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں ، یہ بھی ایک مضحکہ خیز بات ہی ہے۔ کیا عورتوں کو طلاق آر ایس ایس اور بی جے پی والے دے رہے ہیں۔ ارے اپنے معاشرہ کو ٹھیک کر لیتے تو یہ نوبت ہی نہیں آتی ،لیکن نوبت نہیں آتی تو رسیدیں بھی نہیں چھپ پاتیں۔بات بری لگ سکتی ہے ، لیکن بھائی میں تو سوچتا ہوں تو مجھے یہ ایک فضول کی بات ہی لگتی ہے کہ اس طرح کے مطاہرے سے وہ ہندو بھی ہم سے الگ ہو رہے ہیں جو مودی کو پسند نہیں کرتے۔ مگر کیا کریں۔ لوگ کہتے ہیں کہ مظاہرے بھی نہ کریں۔ میں کہتا ہوں کیوں نہ کریں، آصفہ کے لیے کریں ،ا نائو کے لیے کریں، دلتوں اور عورتوں پر ہورہے ظلم کے خلاف کریں ، خواہ ظلم کسی کے ساتھ بھی ہو رہا ہو، دین تو ہمیں یہی بتا تا ہے کہ ظالم کے کلاف سینہ سپر ہوجانا چاہیے ۔ لیکن آپ کریں گے نہیں۔ آصفہ اور انائوکے معاملہ میں کم از کم مودی نے زبان کھولی ہے ، کیا کوئی مولوی اب تک کچھ بولا ہے۔ سوچئے اور میں اگر غلط سوچ رہا ہوں تو مجھے ٹو کٸے۔

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *