……باطل کی شکست فاش یہاں

زین شمسی

admin

ایک بار پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ نریندر مودی اور ان کے نزدیکی رفقا کا فیس ویلیو (Face Value) نہیں بلکہ پلیس ویلیو(Place Value)ہے ۔ یعنی مودی اگر پی ایم نہیں ہیں تو کچھ بھی نہیں ہیں ، امت شاہ اگر بی جے پی کے پارٹی صدر نہیں ہیں تو کچھ بھی نہیں ہیں ، یعنی وہ کوئی پروفیسر ، ڈاکٹر ، انجینئر یا سائنسداں نہیں ہیں۔ اسی لیے پلیس ویلیو کو برقرار رکھنے کے لیے یہ حکومت جو بھی بن پڑے گا کرے گی۔ تعلیمی سرگرمیوں کو تباہ کرنے کے اپنے پوشیدہ ایجنڈے کے ساتھ جب 2014میں غیر تعلیم یافتہ کابینہ کی تشکیل ہوئی تبھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے تھی کہ یہ کابینہ ملک کی ان تمام تعلیمی اداروں کی کمر توڑنے والی ہے جو خوش اسلوبی اور تندہی کے ساتھ بھارت کو تعلیم یافتہ بنانے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی نے اپنے ایجنڈے کو اسمرتی ایرانی جیسی غیر تعلیم یافتہ خاتون کو وزیر تعلیم بنا کر اس بات کا اشارہ بھی دیا تھا ، لیکن تب بھی لوگ سمجھ نہیں پائے تھے۔ایہ بات تب بھی سمجھ لینی چاہیے جب ان سے ملاقات کی غرض سے گئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کو اس عورت نے کھڑے کھڑے ذلیل کر دیا تھا۔
سیاسی اتھل پتھل کے دوران یاد کیجئے تو اس سرکار میں حیدرآباد یونیورسٹی ، جادوپور یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، بنارس یونیورسٹی ، دہلی یونیورسٹی اور اب علی گڑھ یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں میں جس طرح کا سیاسی بھونچال پیدا ہوا ، یہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس سرکار کا ایجنڈا کیا ہے۔ اس بات کو تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ ایک کاروباری مقصد سے تشکیل پائی ہوئی حکومت ہے ، اس کے ایجنڈے میں تعلیم کا گزر نہیں ہے ، اسی لیے تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کا بھی مظاہرہ ہو رہا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ کرناٹک کا الیکشن لب بام ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک ایسا ایشو چاہیے جس سے ووٹوں کی صف بندی میں آسانی ہو ، اسی لیے 1938میں اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی جانب سے لگائی گئی محمد علی جناح کی ایک تصویر کو کرید کر سامنے لایا گیا ہے ، ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں بہت زیادہ اشتعال بی جے پی کو اپنا مقصد پانے میں آسانی فراہم کرے گا ، اس لیے اس ایشو پر انتہائی غور و فکر اور عقلمندی و ہوشیاری سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جو بھی ہوا ، اسے کئی نظریہ سے دیکھا جا سکتا ہے ،پہلا تو یہ کہ جب سے علی گڑھ کے ممبر پارلیمنٹ ستیش کمار گوتم نے اپنا عہدہ سنبھالا ہے ، تب سے ہی ان کی حریص نگاہیں ،
یونیورسٹی پر مرکوز رہی ہیں۔ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی ایک شوشہ یہ چھوڑا کہ چونکہ یونیورسٹی کے ایک عطیہ کنندہ راجا مہندر سنگھ کی زمین پر یونیورسٹی بنائی گئی ہے ، اس لیے ان کا بھی جنم دن سر سید احمد خان کی طرز پر منایا جائے ، اس شوشہ پر بھی جم کر ہنگامہ ہوا اور بعد میں یہ ایشو تعلیمی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا کر خود بخود ختم ہو گیا۔ مقصد بس یہ تھا کہ یونیورسٹی کو ڈسٹرب کیا جائے ، اس میں کچھ دنوں تک کامیابی ملی۔ گاہے بگاہے یونیورسٹی کے خلاف بیان بازیاں آتی رہیں۔ اقلیتی کردار کا بھی معاملہ اٹھتا رہا۔ ابھی چند دنوں پہلے ایک نادان شخص نے وہاں آر ایس ایس کی شاکھا لگانے کی بات کہی ، اس شوشے پر بھی ٹی وی پر بحث کا دور چلا ، جس میں کچھ کٹھ ملاؤں کو بھی طلب کرکے بحث کو طول دی گئی۔ پھر سبرامنیم سوامی نے نفرت آمیز بیان دے کر کہ مسلم یونیورسٹی سے جہادی نکلتے ہیں ،اے ایم یو کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی اور اب جناح کی ایک تصویر کا بہانہ بنا کر یوا واہنی ریوالر ، تلوار ،لاٹھیاں اور پولیس لے کر اے ایم یو طلبا پر ٹوٹ پڑی۔
مقصد صرف یہ تھا کہ اس گل کدہ پارینہ میں آگ بھڑکائی جا سکے۔
جہاں تک محمد علی جناح کا سوال ہے تو بی جے پی کے ہی ایک ممبر پارلیمنٹ سوامی پرساد موریہ نے جناح کو مجاہد آزادی اور معمار قوم بتایا ، آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہی کئی لیڈران جناح کو ایک بہترین سیاست داں بتا چکے ہیں ، یہاں تک کہ لال کرشن آڈوانی مزار جناح کی زیارت کر چکے ہیں ، لیکن ہندوستانی مسلمانوں نے جناح کو تبھی رد کر دیا تھا جب وہ ابوالکلام کی چھتری کے نیچے آئے۔
ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی جناح کو ایک بہترین سیاست داں نہیں مانا ۔ حتیٰ کہ ادیبوں نے بھی منقسم بھارت کو کبھی خطہ کے لیے سود مند قرار نہیں دیا ، یہاں تک کہ کئی مورخ نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ جناح کی پالیسی کی وجہ سے برصغیر کے مسلمان کمزور ہوئے۔ بہر حال اب جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں جناح کی تصویر کی بات سامنے آئی ہے تو پھر یہ بات بھی صاف ہوجانی چاہیے کہ اتنے سالوں بعد اس ایشو کو تب باہر لانے کی کیا ضرورت تھی ،
جب سابق نائب صدر حامد انصاری کو یونین لائف ٹائم ممبر شپ کی سند دینے کے لیے مدعو کر چکی تھی۔ کیا یہ ہنگامہ حامد انصاری سے نفرت اور ان پر حملے کے نظریہ سے کیا گیا۔ جہاں تک تصویر کی بات ہے تو کیا صرف علی گڑھ میں ہی جناح کی تصویر پائی جاتی ہے کہ ، کیا آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کی بلڈنگ میں جناح کی تصویر نہیں ہے ۔ کیا ممبئی میں جناح ہاؤس نہیں ہے ، کیا جناح کا ناتی نسلی واڈیا ہندوستان میں نہیں ہے ۔ کیا ان تمام کتابوں سے جناح کی تصویر ہٹانی ہے ، جو منقسم بھارت کی تاریخ بیان کرتی ہے۔
میں اس بحث میں تو نہیں پڑنا چاہتا کہ ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار صرف جناح ہیں ، کیوں کہ بات نکلے گی تو دور چلی جائے گی اور اس تصویر تک پہنچ جائے گی جس نے نہ صرف ٹو نیشن تھیوری کا نظریہ دیا بلکہ گاندھی کی زندگی بھی لے لی اور کس شان سے پارلیمنٹ میں گاندھی کے ہی بغل میں چسپاں کر دی گئی ہے۔
ہاں اب یہ جو ہنگامہ شروع ہوا ، تو یہ جان لینا چاہیے کہ اس یونیورسٹی نے کئی آندھیاں دیکھی ہیں۔ مجاز کے ترانہ میں اس کی جھلک بھی موجود ہے کہ
یاں ہم نے قبائیں نوچی ہیں ،یاں ہم نے تاج اتارے ہیں
ہرآہ ہے خود تاثیر یہاں ، ہر خواب ہے خود تعبیر یہاں
تدبیر کے پائے سنگیں پر جھک جاتی ہے تقدیر یہاں
غیر تعلیم یافتہ نفرت کے ٹھیکیداروں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس جہاں میں ایک سرسید کا جہاں بھی بستا ہے ، جس دن سرسید کے چمن کے بلبلوں نے تہیہ کر لیا کہ اے ایم یو کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے والوں کو سزا ملے، اس دن سروں پر تاج نہیں ملے گا۔
ہاں افسوس اس بات کا ضرور ہے کہ جس طرح ہندوستانی مسلمانوں نے سرسید کی اہمیت کو سمجھنے میں تاخیر کی اسی طرح سرسید کے پروانوں نے بھی اپنی قابلیت کو سمجھنے میں تاخیر کی ہے۔ یہ دیکھ کر واقعی افسوس ہوتا ہے کہ علی گڑھ اولڈ بوائز ایسو سی ایشن سے لے کر دنیا بھر میں جہاں بھی اے ایم یو کا گروپ ہے وہ اتنا فعال نہیں ہے جتنا ہونا چاہیے کہ ، کچھ اپنے مفاد میں ہیں کچھ اے ایم یو تحریک سے جڑ کر اپنا فائدہ اٹھا رہے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے قومی مفاد کو آگے رکھا جائے نہ کہ ذاتی مفاد کو۔ ایک علیگ ہونے کے ناطے میں کئی مرتبہ اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے پروگرام میں شریک ہواہوں ، لیکن مجھے افسو س ہوا کہ مقررین ٹھیک سے اردو بھی نہیں بول پا رہے ہیں۔ اگر علی گڑھ کے سینئر حضرات اے ایم یو کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے تو وہاں پڑھنے والے طلبا کی رہنمائی کیسے ہوگی۔
اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ جس طرح مدرسوں کا جال بچھا ہوا ہے ، اسی طرح سرسید مشن کے تحت اسکولوں کا جال بچھائے جائے اور ان کے نظریات کو آگے بڑھاتے ہوئے ملکی پیمانہ پر مسلمانوں کو تعلیمی سطح پر مضبوط بنایا جائے۔ تمام علیگ برادری کی ایک ڈائریکٹری ہو ، اور جو جس کام میں یکتا ہو ، ان کو اسی طرح کا کام سونپا جائے اور اس کے فروغ کے لیے علیگ برادری ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا عہد لیں۔ صرف علیگ برادری چاہیں تو قوم اور ملت کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کی کئی تنظیمیں اپنے مفاد کو ترجیح دے رہی ہیں ، اسی طرف علی گڑھ
کے مفاد سے وابستہ لوگ بھی اپنے مفادات کو ترجیح میں رکھ رہے ہیں۔
اس بات کی مجھے فکر نہیں ہے کہ علی گڑھ غیروں کے نشانہ پر ہے ، فکر اس بات کی ہے کہ علی گڑھ کے اپنوں نے بھی علی گڑھ کے مقاصد کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے سے ہی قوم کے تمام مسائل کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ علی گڑھ نے کئی مرتبہ مشکلات کا سامنا کیا ہے مگر
خود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے ، باطل کی شکست فاش یہاں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *