میں مکمل طور پر فٹ ہوں ، تو میں لکھ کیوں نہیں پا رہا ہوں

زین شمسی

Asia Times Desk

ابرار مجیب ، سید احمد قادری ، رحمٰن عباس ، ذوقی عالم ، حسین الحق ، خورشید حیات ، ابوبکر عباد ، ارتضی کریم ، سید عمران بلخی ، وصی بختیاروی ، مکرم نیاز ، یحیٰ خان ، علامہ اعجاز فرخ ، اقبال حسن آزاد ، حقانی القاسمی، پروفیسر سجاد ، اشرف استھانوی ، عبدالحمید نعمانی ، مرزا عبد الباقی ،
صاحبان ! قدر دان !!
سب سے پہلے میں معافی کا خواستگار ہوں کہ آپ سب کو میں نے ٹیگ کیا ہے۔ ٹیگ کرنے کو میں کبھی اچھا نہیں سمجھتا ، مجھے لگتا ہے کہ میں زبردستی آپ کی توجہ اپنی طرح مبذول کر ارہا ہوں، لیکن آج مجبوراً مجھے آپ سب کو ٹیگ کرنا پڑا ہے۔ وجہ کچھ بھی نہیں ہے ، مگر بہت کچھ ہے۔ میں مشکل میں ہوں۔
میں لکھنا بھول گیا ہوں اور اسی لیے آپ سب کو ٹیگ کر رہا ہوں کیونکہ آپ سب لوگ لکھتے ہیں ، خوب لکھتے ہیں ، اچھا لکھتے ہیں ، لکھتے ہی رہتے ہیں۔ کتابیں ، مضامین ، کہانیاں ، ناول ، تنقید ، شاعری ۔ آپ سب مصنف ہیں ، لکھاری ہیں۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی آدمی لکھنا ہی بھول جائے؟
میرے دادا نے ایک بار کہا تھا کہ تین چیزیں انسان کبھی نہیں بھولتا، سائیکل چلانا ، تیرنا اور لکھنا۔ اب وہ زندہ نہیں ہیں کہ میں ان سے جا کر کہوں کہ دادا، میں لکھنا بھول گیا؟ آپ جھوٹ بول رہے تھے؟
تو میں آپ کے دربار میں آیا ہوں یہ پوچھنے کہ کیا آپ لوگوں کے ساتھ ایسا کوئی مرحلہ ، کوئی وقفہ ، کوئی لمحہ پیش آیا ہے جب آپ لکھنا چاہ رہے ہوں اور لکھ نہیں پا رہے ہوں ۔ ایسا کوئی پریڈ ہوتا ہے کہ جب آپ لکھنے کے لیے بیٹھیں اور لکھ نہ پائیں اور اگر یہ ہوتا ہے تو کتنے دنوں کے لیے ہوتا ہے، یہ اس لیے دریافت کر رہا ہوں کہ مجھے مسلسل تین ماہ ہوگئے ہیں اور میں کچھ نہیں لکھ پاتا ہوں۔ اپنے اخبار میں اپنا مضمون نہیں لکھ پاتا ہوں۔ یہ حیرت کی بات ہے۔ حیرت اس لیے کہ کسی بھی مضمون کو لکھنے میں مجھے پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔ سہارا میں ملازمتی صحافت کے دوران مجھے ایمرجنسی رائٹر کے نام سے لوگ جانتے تھے کہ جب کبھی کسی کا مضمون نہیں پہنچ سکا یا کوئی مضمون پالیسی کے خلاف ہوا تو اس کی جگہ زین شمسی کو کہا جاتا تھا کہ فٹا فٹ ایک مضمون لکھ دیں اور میں لکھ دیا کرتا تھا۔
اس کے بعد جب آزاد صحافت کرنے لگا تو یہ کام اور آسان ہو گیا۔ اب دیکھئے اتنے حوادث و معاملات گزر گئے۔ ہر بار کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا ، لیکن کچھ نہیں لکھ سکا، پہلے تو ایسا لگا کہ شاید یہ کچھ دنوں کا معاملہ ہے ، لیکن تین ماہ کا وقفہ گزرنے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے ، جیسے واقعی میں لکھنا بھول گیا ہوں۔
کاس گنج کا خونی کھیل ،نیرو مودی کا پیسہ لے کربھاگ جانا، سلمان ندوی کا سودا ، یوم مادری زبان پر ان استادوں کی اردو پڑھنے کی تلقین جنہوںنے اپنے بچوں کو اردو سے دور رکھا، اورنگ آباد میں تبلیغی جماعت کا ازدہام اور اس پر تبصرے ، ایس آئی او کے پروگرام میں مشاعرہ ، شری دیوی کی موت اور اس موت پر میری بیوی کا کہنا کہ اس پر مضمون لکھو اور میں بیوی کی بات بھی پوری نہیں کر سکا۔ شام میں قتل عام اور اس پر تبصرہ کہ یہ سب اسرائیل کی کارستانی ہے، غصہ کے باوجود کچھ نہیں لکھ پانا۔ یہ سب ایسے موضوعات تھے ، جس پر بغیر ہاتھ دھوئے لکھ سکتا تھا، لیکن قلم نہیں اٹھا پایا۔
جیسے لکھنا سکھایا نہیں جا سکتا اسی طرح لکھنا بھلایا کیسے جا سکتا ہے۔ کسی کاایک اقتباس پڑھئے
’کیا لکھنا سکھایا جا سکتا ہے؟ مگر شیکسپیئر کو کس نے لکھنا سکھایا تھا؟ غالب نے کس کری ایٹو رائٹنگ کی درس گاہ سے شعر کہنا سیکھا تھا؟ جدید مغربی ادب کے موقر نام جیسے کہ فرانس کافکا، ژاں پال سارت، کامو، ژاں جنے، مارکیز اور ملان کنڈیرا کیا درس گاہوں سے تیار ہو کر آئے تھے؟ کیا منشی پریم چند، کرشن چندر اور منٹو نے افسانے لکھنے کی تکنیک باقاعدہ کسی اسکول سے سیکھی تھی۔ کیا جون ایلیاء نے امروہے کے کسی اسکول میں بحرِ رجز پر عبور حاصل کیا تھا؟ جواب یقیناً نفی میں ہے۔‘
تو جب لکھنا آگہی کا معاملہ ہے تو نہ لکھنا کیا ہے؟بھائی صاحبان
یا پھر بقول حبیب جالب کہ
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا –
لیکن کمبخت یہ بھی تو تبھی لکھنا ہوگا جب آدمی کو لکھنا آئے۔
اس اقتباس کو بھی دیکھئے ، جو میری سمجھ کے ساتھ میل کھاتے ہیں ، کس کے ہیں ، مجھے نہیں پتہ کہ
’ دنیا میں جتنے لکھنے والے گزرے ہیں میں ان سے کچھ الگ نہیں لکھنا چاہتا اور نہ ہی مجھ میں کچھ نیا لکھنے کی خواہش ہے ،لکھنے کے حوالے سے میں صرف ایک امر کو سب سے زیادہ معنی خیز سمجھتا ہوں اور وہ امر خود لکھنے کا عمل ہے۔ مجھے لکھنے کی تاریک دنیائیں اپنی طرف بلاتی ہیں اور میں اس بیمار بوڑھے شخص کی طرح تیزی سے اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں جو موت کی جانب سفر کرتا ہے۔ لکھنے کے لیے مجھے نئی دنیاوں اور نئی کہانیوں کی یا نئی مثالوں کی بھی جستجو نہیں ہوتی میں تو بس ایک ایسی بات لکھنے کو ہی سب سے بہتر سمجھتا ہوں جو انسان کی عقلوں کے عین مطابق ہو۔ مجھے زندگی اور لکھنا ایک سکے کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ جب تک انسان لکھنے کے عمل سے واقف نہیں ہوتا وہ زندگی کے نہاں خانہ وحشت سے بھی آشنا نہیں ہوپاتا۔ میں لکھنے کی سعی میں خود سے ہزاروں جھوٹ بولتا ہوں جن کو اپنی عیاریوں اور مکاریوں سے خود پر سچ بنا کر نازل کرتا ہوں اور اس سچایوں کی دیواروں سے لگ کو روتے ہوئے نوشتہ دیوار تحریر کرنے میں سر گرداں ہو جاتا ہوں ۔ میں تقدیر سے بہتر اور تعبیر سے گہرا فن پارہ لکھنے کی خواہش میں الجھا رہتا ہوں اور ایسے میں میں کچھ بھی لکھ جانے کو بے کار نہیں سمجھتا اور قاعدوں سے الگ رہ کر لکھنے کو ہر لکھے سے اعلی جانتا ہوں، لہٰذا !میں ایسا ہی کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔‘
کیا میں ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوں ؟
نہیں
کیا میں سماجی ٹینشن سے گزر رہا ہوں؟
نہیں
کیا میں معاشی تنگ حالی کا شکار ہوں ؟
نہیں
کیا میں گھریلو پریشانی سے نبرد آزما ہوں ؟
نہیں
میں مکمل طور پر فٹ ہوں ، ذہنی اور جسمانی دونوں شکل میں ، تو میں لکھ کیوں نہیں پا رہا ہوں۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ نیوٹن کے اس قانون کی طرح جو وہ خود لکھنا بھول گیا؟ میں بھی پڑھا بے لکھا ہو گیا ہوں۔
نیوٹن کے وہ قوانین جو نیوٹن کسی وجہ سے لکھنا بھول گیا آپ بھی غور کریں۔
1۔ انتظاری قطاروں کا قانون :
اگر کسی جگہ ایک سے زیادہ انتظاری قطاریں ہونے کی صورت میں آپ ایک قطار چھوڑ کر دوسری میں جا کر کھڑے ہوں تو پہلے والی قطار تیزی سے چلنا شروع ہو جاتی ہے۔
2۔ مکینکی قانون:
کوئی مشین مرمت کرتے ہوئے جب آپ کے ہاتھ تیل یا گریس سے بھر جائیں، تو آپ کی ناک پر فوراً کھجلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
3۔ ٹیلیفون کا قانون :
جب کبھی بھی رانگ نمبر ڈائل ہو جائے تو کبھی بھی مصروف نہیں ملتا۔ آزمائش شرط ہے
4۔ ورکشاپ کا قانون :
اگر آپ نے ایک سے زیادہ چیزیں ہاتھ میں اٹھا رکھی ہیں تو ہمیشہ قیمتی اور نازک چیز زمین پر پہلے گرے گی۔
5۔ دفتری قانون :
اگر آپ دفتر دیر سے پہنچنے پر اپنے باس کو ” ٹائر پنکچر ” ہو جانے کا بہانہ بنا کر مطمئن کر دیں تو اگلے دو تین دن کے اندر لازمی ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے
6۔ باتھ روم کا قانون :
جب آپ باتھ روم میں نہانے کے دوران صابن لگا چکے ہوں تو بیٹھک میں ٹیلیفون بجنا شروع ہوجاتا ہے۔
7۔ خفیہ ملاقاتی قانون :
جب آپ کسی سے خفیہ ملاقات میں ہوں (چاہے ڈیٹ پہ ہوں) تو کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی جاننے والا ضرور آپ کو دیکھ لیتا ہے۔
8۔ دودھ ابالنے کا قانون
دودھ ابالتے وقت آپ چاہے جتنی دیر مرضی کھڑے رہیں دودھ نہیں ابلے گا جیسے ہی ایک آدھ منٹ کے لیئے ادھر ادھر ہوئے دودھ ابل کر باہر آ جائے گا اور چولہے کا ستیا ناس ہو جائے گا
9۔ چائے کا قانون :
دوران کام اگر آپ کا دل گرم گرم چائے پینے کو چاہ رہا ہے اور گرما گرم چائے آپ کی ٹیبل پر آ گئی ہو تو آپ کا باس عین اسی وقت آپ کو بلائے گا یا ٹیلفون کرے گا تا وقتیکہ چائے ٹھنڈی ہو جائے۔
10۔ امتحانی قانون :
دیانتداری اور محنت سے حل کیے گئے سوال کے نمبر ہمیشہ نقل شدہ جواب سے کم ہی آتے ہیں۔
اور اس پر بھی غور کریں ، جو لکھاریوں کے لیے بہت ضروری ہیں۔
’’میں ویب سائٹس پر بلاگ لکھ کر ایک مہینے میں پچاس ہزار کما لیتا ہوں۔‘‘
میں نے حاضرین محفل پر رعب جمانے کی کوشش کی۔
’’میں ڈائجسٹوں میں کہانیاں لکھ کر لاکھ روپے کماتا ہوں۔‘‘
احمد اقبال مسکرائے۔
’’میں ٹی وی ڈرامے لکھ کر دو لاکھ کما لیتی ہوں۔‘‘
آمنہ مفتی نے منہ بنایا۔
’’میں اخبار میں کالم لکھ کر تین لاکھ کما لیتا ہوں۔‘‘
گل نوخیز اختر نے منہ چڑایا۔
’’میں ایک مہینے میں پانچ لاکھ کماتا ہوں۔‘‘
ڈوڈو نے انکشاف کیا۔
’’آپ کیا لکھتے ہیں؟‘‘
آمنہ نے مرعوب ہو کر پوچھا۔
ڈوڈو نے کہا،
’’باجی! میں تعویذ لکھتا ہوں۔‘‘
تو کیا میں تعویذ لکھنے لگوں ، بھائیوں ، مجھے تعویذ لکھنے سے بچائیں
اوراس التجا کے ساتھ کچھ مشورہ دیں ، بتائیں ، سکھائیں ، تاکہ آپ کا یہ بھائی جس نے زندگی میں لکھنے کے سوا کچھ نہیں سیکھا پھر سے لکھنے لگے ، آپ کی حوصلہ افزائی اور آپ کا تجربہ شاید مجھے مطمئن کر سکے اور ہاتھ پھر سے قلم ہو سکے۔ ذو معنی میں مت لیجئے گا۔ شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *