قرآن کانفرنس میں قرآن کو سمجھنے اور اپنانے کی نصیحت

Ashraf Ali Bastavi

نئی دہلی:  زکوٰة فانڈیشن آف انڈیا کی طرف سے گزشتہ شام یہاں منعقد ہوئی قرآن کانفرنس میں ملت اسلامیہ کے تمام افراد سے یہ پرزور اپیل کی گئی کہ وہ قرآن کو اپنا لائحہ عمل، اپنے مسائل کاحل، اپنی بیماریوں کا علاج اور اپنے خطرات کادفاعی نظام بنالیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ وہ حالات کی سختیوں اور سامنے نظر آنے والے خطرات سے گھبرائیں نہیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی طرز عمل کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق بنانے کی کوشش کریں، اس طرح انہیں اپنا راستہ صاف نظر آئے گا اوراللہ تعالی کی نصرت ان کے ساتھ اسی طرح شامل حال ہوگی جس طرح انبیاءکرام اور ان کے جانشینوں کے ساتھ پہلے شامل حال رہی ہے جس کی بدولت اللہ کا دین اورامت مسلمہ ہر طرح کے بحران سے نکلتی رہی ہے۔

یہ قرآن کانفرنس ایوان غالب کے وسیع آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جو مردوں اور خواتین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور دہلی وبیرون دہلی کے لوگ جہاں بہت شوق اور ولولہ کے ساتھ پروگرام شروع ہونے سے کافی پہلے ہی جمع ہو چکے تھے۔

کانفرنس کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت اور اس کی تفہیم سے ہوا۔ مفتی ڈاکٹر عادل جمال ندوی نے سورہ حشر کے آخری رکوع کی تلاوت بہت خوش الحانی کے ساتھ کی اور پھر اس کا مطلب اور پیغام واضح کیا۔

”کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں ” کے عنوان سے منعقد اس کانفرنس کے روح رواں اور زکوٰة فاونڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمود صاحب نے ”قلب انسانی عشق خدا کا سرچشمہ بن سکتا ہے” کے موضوع پر بہت دل پزیر خطاب کیا۔ انہوں نے قرآن کریم میں اور علامہ اقبال کے شاعرانہ کلام میں قلب کے حوالے سے کہی گئی باتوں کو عام فہم انداز میں سمجھاتے ہوئے حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ ہر فرد اپنے دل کو صاف اور پاکیزہ بنانے کی طرف توجہ دے۔ دل کی درستگی پر ہی عمل کی درستگی کا انحصار ہے اور عمل درست ہوگا تو پورا رویہ درست ہوگا اور پھر اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انھوں نے امام غزالی کا ایک قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ دل انسان کے اعضاءمیں سب سے عظیم اور بلند حیثیت اس لئے ہے کہ دل ہی وہ شے ہے جو اللہ کو پہچان سکتی ہے اور پہچانتی ہے۔ دل مقامِ علم ہے اور اس کی وسعتیں عقل سے کہیں زیادہ ہیں۔ موصوف نے امریکہ کے ہارٹ میتھ انسٹیٹیوٹ کی ایک ریسرچ کے حوالے سے بتایا کہ دل کے اندر ایک گوشہ ذہانت ہوتا ہے جسے ہارٹ برین کہتے ہیں۔ اس میں چالیس ہزار سے زیادہ نیورون ہوتے ہیں۔ ہارٹ برین ہی پیغامات کو سنتا، سمجھتا اور ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، پھر یہی پیغام دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ اس پر ایکشن لیتا ہے۔

جناب ظفر محمود  نے دل کی اہمیت کی طرف حاضرین کو متوجہ کیا اور قرآن کی آیات، احادیث اور اشعار کے ذریعہ حاضرین کے دلوں کو گرمانے والی گفتگو سے دھیمے آہنگ اور موثر انداز میں نصیحت آموز خطاب کیا۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے دعوت دین کے مشن سے وابستہ معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان قرآن کریم کی تعلیمات کو اس طرح سے اپنے عمل میں لائیں کہ خود ایک نظر آنے والا قرآن بن جائیں۔انھوں نے کہا کہ اللہ سے اچھا تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے، وہ پوری کائنات کا حاکم ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالموں کے لئے رحمت ہیں۔ ہمیں اس بات کو سمجھ کر اپنے دل سے خوف بھی دور کرنا چاہیے اور اپنا رویہ و اخلاق بھی انسانوں کے ساتھ مشفقانہ رکھنا چاہیے اور اللہ کے دین کی طرف اللہ کے بندوں کو بلانا چاہئے۔ ہم مسلمانوں کو یہی ڈیوٹی اللہ نے دی ہے۔ ہم اپنی ڈیوٹی ٹھیک سے پوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہوگا اور ہماری دست گیری کرتا رہے گا۔

دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور اقبال اکیڈمی انڈیا کے نائب صدر ڈاکٹر عبدالحق صاحب نے بھی حاضرین کو خطاب کیا۔ زکوٰة فاونڈیشن آف انڈیا کے نائب صدر جناب ایس ایم شکیل نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ فاونڈیشن کے پروگراموں میں ضیافت کا انتظام فاونڈیشن کے اراکین کی جانب سے کیا جاتا ہے، فاونڈیشن کا فنڈ اس کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔

زکوٰة فانڈیشن کے سرگرم رکن جناب ممتاز نجمی کی کنوینر شپ میں یہ کانفرنس بہت حسن انتظام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ قرآن کی آیات اور اقبال کے اشعار حکمت سے جلسہ گاہ کو آراستہ کیا گیا تھا۔ ان اشعار اور اقوال کے طغرے بھی حاضرین کو تقسیم کئے گئے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *