بڑھتی آبادی پر دنیا 250 برس سے ٹامس رابرٹ مالتھسن کی دلیل میں الجھی ہوئی ہے

زبـــــــــــیر خان سعیدی 

Asia Times Desk

دنیا بھر میں کل یعنی 11 جولائی کو عالمی یومِ آبادی منایا جائے گا، اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر دنیا کو آبادی کے بڑھتے ہوئے مسائل سے آگاہی فراہم کرنا ہوتا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں بڑھتی آبادی کی روک تھام کے لئے ہر سال گیارہ جولائی کو آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔

ابتدائے آفرینش سے سن 1800 عیسوی تک انسانی آبادی کو ایک ارب ہونے میں ہزاروں سال لگے اور 1920 کی دہائی میں آبادی دو ارب تک پہنچ گئی، یعنی دوگنا ہونے میں صرف سو سال لگے۔

اس کے صرف پچاس برس بعد 1970 کی دہا ئی میں آبادی دگنا یعنی چار ارب ہو گئی۔ دنیا کی آبادی بہت جلد آٹھ ارب کی لکیر تک پہنچنے والی ہے.اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب 71 کروڑ 6 لاکھ 62 ہزار 614 ہے- (وقت 03:20pm بہ تاریخ 10 جولائی)
اور آج ایک دن میں، انسانی نسل سیارۂ زمین پر ایک چوتھائی ملین (ڈھائی لاکھ)افراد اضافہ کر رہی ہے یعنی ہم ہر سال جرمنی کے پورے ملک کے برابر آبادی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

1798ء میں ماہر معاشیات ٹامس رابرٹ مالتھس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ آبادی جیومیٹرک تناسب (1، 2، 4، 8، 16، 32) سے بڑھتی ہے، جبکہ وسائل میں اضافہ آرتھمیٹک حساب (1، 2، 3، 4، 5، 6، 7)سے ہوتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق آبادی میں اضافہ وسائل پر بوجھ کا باعث بنتا ہے-

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی کہ جس تیزی سے وسائل مہیا نہیں ہو رہے۔ دنیا بھر کے بے شمار مسائل آبادی میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں ان میں خوراک کی فراہمی، علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی اشیاءجو بنی نوع انسان کے لیے ضروری ہیں۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ہی یہ آبادی کا عالمی دن ہر سال 11جولائی کومنایا جا تا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے چین دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے ملک ہندوستان کی آبادی ایک ارب 36 کروڑ 91 لاکھ اور پڑوسی. ملک پاکستان انیس کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے ۔

بر صغیر ہند و پاک کی آبادی میں اضافے اور وسائل کی کمی کے باعث مسائل میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔

اس وقت 21 فیصد سے زائد ہندوستانی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، جبکہ کروڑوں لوگ پینے کے صاف پانی سمیت تعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

آبادی میں ہونے والا یہ اضافہ مسائل کے حل میں بھی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں حالات مزید سنگین ہو جائیں گے-

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *