گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا

 زبـــــــــــیر سعیدی العمری 

Asia Times Desk

 ✍️ گزشتہ جمعے کی رات (جمعرات) کو ہی دہلی سے آبائی وطن بدایوں پہنچ گیا تھا، بدایوں میں پہلی رات تو رویت  کے اختلافات کی نذر ہوگئی، دوسری شب شوال کے چاند کی صحت کا تذکرہ رہا، کچھ نے کہا کہ پورے تیس کا ہے، کچھ دو شوال کا مان رہے تھے، جن کے ٢٩ روزے ہو پائے تھے وہ چاند کو صحت مند ہی ماننے کو ہی تیار نہیں تھے، خیر میری برہنہ آنکھوں نے جس چاند کی رویت کی تھی، وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک نظروں سے نظریں ملاتا اور یہ زبان حال سے یہ کہتا نظر آیا کہ اب بھی وقت ہے، سدھر جاؤ، ورنہ حشر کیا ہوگا اس کا اندازہ پچھلی قوموں کو بھی نہیں تھا جن کو میں نے تباہ ہوتے دیکھا تھا

خیر…..
تین دن کے (شمسی اعتبار سے) وقفے کے بعد آج کچھ لکھ رہا ہوں اور اس لئے لکھ رہا ہوں کہ آجکل سب لکھ لکھ کر مشتاق یوسفی کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں
مجھے یاد ہے کہ مشتاق یوسفی اور ہلال کا عجیب رشتہ ہے، اعظم گڑھ میں ایک خطہ ہے، چاند پٹی، جہاں کے کچھ لوگ اپنے آپ کو اسی مناسبت سے ہلالی کہتے ہیں، ابوالفضل انکلیو کے معروف ہلالی صاحب سے میرا تعلق مشتاق یوسفی کی کتابوں کی وجہ سے ہی ہوا تھا ہوا یوں کہ قیام دہلی کے ابتدائی دن تھے، ہم ایک خاندان کی طرف محبت سے ابوالفضل میں رہا کرتے تھے، اب اُس باہمی اخوت و محبت کا ابو الفضل انکلیو میں کلی طور پر فقدان ہے، کوئی غلط رائے نہ قائم کر لے اس لئے پیشگی بتا رہا ہوں

اتفاق سے ان دنوں میرے پاس ‘خاکم بدہن’ ، ‘چراغ تلے’ ، ‘زرگزشت’ اور ‘آب گم’ چاروں کتابوں کا ایک سیٹ ہوا کرتا تھا، جو کسی طرح میں نے حاصل کر لیا تھا اور…. مشتاق یوسفی کو پڑھنے والوں تک یہ خبر نہ پہنچے ایسا ممکن بھی نہیں تھا

ایک بار ہلالی صاحب مجھے ملے اور آنکھوں کو اوپر نیچے کرتے ہوئے کہنے لگے، ارے زبیر! چراغ تلے اندھیرا، ہمیں دوسروں سے خبر مل رہی ہے، ہمیں کو محروم رکھا ہے، یہ اچھی بات نہیں… ظلم کی انتہا ہے یہ

میرے بہت پوچھنے پر ہلالی صاحب نے بتایا کہ کل شام فلاں صاحب دکان پر چائے پینے آئے تھے، میں نے ان کے ہاتھ میں ‘چراغ تلے’ دیکھی، پوچھا تو معلوم چلا کہ تمہاری ہے، بتاتا چلوں کہ ہلالی صاحب کافی بزرگ ادب دوست انسان ہیں، ابوالفضل انکلیو میں رہتے ہیں، آجکل علیل ہیں، آپ سب ان کی صحت کے لئے دعا کریں،
ہلالی صاحب سے مشتاق یوسفی کے طفیل عمر کے بڑے فرق کے باوجود ایک اچھی دوستی ہوگئی تھی

احباب کے لئے آج مشتاق یوسفی مرحوم کا ایک خاکہ پیش کر رہا ہوں 

“مقدمہ نگاری کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو۔ اسی لیے بڑے بڑے مصنف بھاری رقمیں دے کر اپنی کتابوں پر پروفیسروں اور پولیس سے مقدمے لکھواتے اور چلواتے ہیں۔ اور حسب منشا بدنامی کے ساتھ بری ہوجاتے ہیں فاضل مقدمہ نگار کا ایک پیغمبرانہ فرض یہ بھی ہے کہ وہ دلائل و نظائر سے ثابت کردے کہ اس کتاب مستطاب کے طلوع ہونے سے قبل ادب کا نقشہ مسدس حالی کے عرب جیسا تھا۔
ادب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا
جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا
اس میں شک نہیں کہ کوئی کتاب بغیر مقدمہ کے شہرت عام اور بقائے دوام حاصل نہیں کر سکتی۔ بلکہ بعض معرکۃ الآراء کتابیں تو سراسر مقدمے ہی کی چاٹ میں لکھی گئی ہیں۔ برنارڈ شا کے ڈرامے (جو درحقیقت اس کے مقدموں کی تضمین ہیں) اسی ذیل میں آتے ہیں۔ اور دور کیوں جائیں۔ خود ہمارے ہاں ایسے بزرگوں کی کمی نہیں جو محض آخر میں دعا مانگنے کے لالچ میں نہ صرف یہ کہ پوری نماز پڑھ لیتے ہیں بلکہ عبادت میں خشوع و خضوع اور گلے میں رندھی رندھی کیفیت پیدا کرنے کے لیے اپنی مالی مشکلات کو حاضر و ناظر جانتے ہیں۔ لیکن چند کتابیں ایسی بھی ہیں جو مقدمہ کو جنم دے کر خود دم توڑ دیتی ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر جانسن کا ڈکشنر، جس کا صرف مقدمہ باقی رہ گیا ہے۔ اور کچھ مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں جو مقدمہ لکھ کر قلم توڑ دیتے ہیں۔ اور اصل کتاب کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے۔ جسیے شعر و شاعری پر مولانا حالی کا بھر پور مقدمہ جس کے بعد کسی شعر شاعری کی تاب و تمنا ہی نہ رہی۔ بقول مرزا عبدلودود بیگ، اس کتاب میں سے مقدمہ نکال دیا جائے تو صرف سرورق باقی رہ جاتا ہے۔
تاہم اپنا مقدمہ بقلم خود لکھنا کار ثواب ہے کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ آدمی کتاب پڑھ کر قلم اٹھاتا ہے ورنہ ہمارے نقد عام طور سے کسی تحریر کو اس وقت تک غور سے نہیں پڑھتے جب تک انہیںاس پر سرقہ کا شبہ نہ ہو۔
پھر اس بہانے اپنے چند ایسے نجی سوالات کا دندان شکن جواب دیا جا سکتا ہے جو ہمارے ہاں صرف چالان اور چہلم کےموقع پر پوچھے جاتے ہیں۔ مثلاً کیا تاریخ پیدائش وہی ہے جو میٹرک کے سرٹیفیکیٹ میں درج ہے؟ حلیہ کیا ہے؟ مرحوم نے اپنے “بینک بیلنس“ کے لیے کتنی بیویاں چھوڑی ہیں؟ بزرگ افغانستان کے راستے سے شجرہ نسب میں کب داخل ہوئے؟ نیز موصوف اپنے خاندان سے شرماتے ہیں یا خاندان ان سے شرماتا ہے؟ راوی نے کہیں آزاد کی طرح جوش عقیدت میں ممدوح کے جد امجد کے کانپتے ہوئے ہاتھ سے استرا چھین کر تلوار تو نہیں تھما دی؟

چنانچہ اس موقع سے جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مختصر سا خاکہ پیش کرتا ہوں۔

نام
سرورق پر ملاحظہ فرمائیے

خاندان
سو پشت سے پیشہ آباء سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔

تاریخ پیدائش
عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔
اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقل صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔

advt

پیشہ
گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن سکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔
اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اصلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔

پہچان
قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔

جسامت
یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن ستا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو میرے بھی فٹ آتا ہے۔

حلیہ
اپنے آپ پر پڑا ہوں۔
پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذاۃ کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔

پسند
غالب، ہاکس بے ، بھنڈی
پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مروب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہسی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔

پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بر بنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔

گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔

چڑ
جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔

مشاغل
فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا

تصانیف
چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط

کیوں لکھتا ہوں
ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے اور یہاں یہ صورت ہو تو خام فن کار کے لئے طنز ایک مقدس جھنجلاہٹ کا اظہار بن کر رہ جاتا ہے اور چنانچہ ہر وہ لکھنے والا جو سماجی اور معاشی نا ہمواریوں کو دیکھتے ہی دماغی باوٹے میں مبتلا ہونے کی صلاحیت رکھتاہے، خود کو طنز نگار کہنے اور کہلانے کا سزاوار سمجھتا ہے لیکن سادہ و پرکار طنز ہے بڑی جان جوکھوں کا کام، بڑے بڑوں کے جی چھوٹ جاتے ہیں
اچھے طنز نگار تنے ہوئے رسے پر اترا اترا کرکرتب نہیں دکھاتے بلکہ رقص یہ لوگ کیا کرتے ہیں تلواروں پر
اور اگر ژاں پال سارتر کی مانند ‘دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بیباک’ ہو تو جنم جنم کی یہ جھنجلاہٹ آخرکار ہر بڑی چیز کو چھوٹی کر کے دکھانے کا ہنر بن جاتی ہے لیکن یہی زہر غم جب رگ وپے میں سرایت کرکے لہو کو کچھ اور تیز و تند و توانا کردے تو نس نس سے مزاح کے شرارے پھوٹنے لگتے ہیں۔
عمل مزاح اپنے لہو کی آگ میں تپ کرنکھرنے کا نام ہے۔ لکڑی جل کرکوئلہ بن جاتی ہے۔اور کوئلہ راکھ لیکن اگر کوئلے کے اندر کی آگ باہر کی آگ سے تیز ہو تو پھر وہ راکھ نہیں بنتا، ہیرا بن جاتا ہے
مجھے احساس ہے کہ ننھے سے چراغ سے کوئی الاؤ بھڑک سکا اور نہ کوئی چتا دہکی
میں تو اتنا جانتا ہوں کہ اپنی چاک دامنی پر جب اورجہاں ہنسنے کو جی چاہا ہنس دیا۔اور اب اگر آپ کو بھی اس ہنسی میں شامل کرلیا تو اس کو اپنی خوشی قسمتی تصورکروں گا۔میرا یہ دعویٰ نہیں کہ ہنسنے سے سفید بال کالے ہوجاتے ہیں۔اتنا ضرور ہے کہ پھر اتنے برے نہیں معلوم ہوتے۔ بالفعل، اس سے بھی غرض نہیں کہ اس خندہ مکرّر سے میرے سوا کسی اور کی اصلاح بھی ہوتی ہے یا نہیں۔ہنسنے کی آزادی فی نفسہ تقریر کی آزادی سے کہیں زیادہ مقدم و مقدس ہے۔ میر اعقیدہ ہے کہ جو قوم اپنے آپ پر جی کھول کر ہنس سکتی ہے وہ کبھی غلام نہیں ہوسکتی۔
یقین کیجئے ،اس سے اپنے علاوہ کسی اور کی اصلاح و فہمائش مقصود ہو تو رو سیاہ کار لائل نے دوسروں کی اصلاح سے غلو رکھنے والوں کو بہت اچھی نصیحت کی تھی کہ ”بڑا کام یہ ہے کہ آدمی اپنی ہی اصلاح کر لے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا سے کم از کم ایک بدمعاش توکم ہوا۔
میری رائے میں(جوضروری نہیں کہ ناقص ہی ہو) جس شخص کو پہلا پتھر پھینکتے وقت اپنا سر یاد نہیں رہتا، اسے دوسروں پر پتھر پھینکنے کا حق نہیں۔

مخدومی مکرمی جناب شاہد احمد دہلوی کا تہ دل سے سپاس گزار ہوں کہ انہوں نے یہ مضامین، جو اس سے پہلے مختلف رسائل میں شائع ہوچکے تھے، پڑھوا کر بکمال توجہ سنے اور نہ صرف اپنی گمبیھر چپ سے کمزور حصوں کی نشاندہی کی، بلکہ جو لطیفے بطورِ خاص پسند آئے ان پر گھر جاکر بہ نظر حوصلہ افزائی ہنسے بھی
اگر اس کے باوجود وہ زبان و بیان کی لغزشوں سے پاک نہیں ہوئے (اشارہ مضامین کی طرف ہے) تواس میں ان کا قصور نہیں۔

Image result for mushtaq yusufi
یوں بھی میں قبلہ شاہد احمد صاحب کی باوقار سنجیدگی کا اس درجہ احترام کرتا ہوں کہ جب وہ اپنا لطیفہ سنا چکتے ہیں تو احتراماً نہیں ہنستا لیکن ایک دن یہ دیکھ کر میرا ایک مضمون پڑھ کے ”الٹی ہنسی“ (جس میں بقول ان کے آواز حلق سے باہر نکلنے کی بجائے الٹی اندر جاتی ہے) ہنس رہے ہیں، میں خوشی سے پھولا نہ سمایا
پوچھا: ”دلچسپ ہے؟“
فرمایا: ”جی! تذکیر و تانیث پر ہنس رہا ہوں!“
پھرکہنے لگے: ”حضرت! آپ پنگ پانگ کو مؤنث اور فٹ بال کو کو مذکر لکھتے ہیں!“
میں نے کھسیانے ہو کر جھٹ اپنی پنسل سے فٹ بال کو مؤنث اور پنگ پانگ کو مذکر بنا دیا تو منہ پھیر پھیر کر ”سیدھی“ ہنسی ہنسنے لگے۔
دوستوں کا حساب گو دل میں ہوتا ہے، لیکن رسماً بھی اپنی اہلیہ ادریس فاطمہ کاشکریہ ضروری ہے کہ
”خطا“ شناس من است ومنم زباں و دانش
ان مضامین میں جوغلطیاں آپ کونظر آئیں،اور وہ جواب بھی نظر آ رہی ہیں، ان کا سہرا بالترتیب ان کے اور میرے سر ہے۔ اس سے پہلے وہ میرے مطبوعہ مضامین میں کتابت کی غلطیاں کچھ اس انداز سے نکالتی تھیں گویا لیتھو میں نے ہی ایجاد کیا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اس کتاب کو آفسیٹ پر چھپوانے میں مکتبہ جدید کی ترغیب وتحریص سے زیادہ ان کے طعن و تعریض کو دخل ہے۔ رخصت ہونے سے قبل مرزا عبدالودود بیگ کا تعارف کراتا جاوں۔ یہ میراعم زاد ہے۔دعا ہے خدا اس کی عمر و اقبال میں ترقی دے۔
کراچی
٥ فروری ١٩٦١ مشتاق احمد یوسفی
پس لفظ: ان مضامین اور خاکوں کو پڑھ کر اگر کوئی صاحب نہ مسکرائیں تو ان کے حق میں یہ فال نیک ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ خود مزاح نگار ہیں”

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *