موجودہ صدی اور احوال فاتحین و مفتوحین

زبـــــــــــیر سعیدی العمری 

Asia Times Desk

ہم جس پر فریب اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں

وہ بڑی عجیب و غریب صدی ہے، جہاں انسان کی اہمیت کم اور ایک جانور کی اہمیت زیادہ ہوگئی ہے، شیطانیت کا ایسا بول بولا ہے کہ صرف شرپسند عناصر ہی نہیں بلکہ روایتی مذہبی قائدین کی زبانیں بھی خوب پھسل رہی ہیں اور منھ توڑ جواب دینے کے چکر میں کوئی کسی سے کم نظر نہیں آرہا ہے

کچھ ماہ پہلے ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزری تھی، جس میں ایک بڑے خانوادے کے تہذیب یافتہ اور متمدن مولانا صاحب اپنے قیامِ ہند کے فیصلے کو دفاع کرتے ہوئے جوشیلے انداز میں بیان کرتے ہوئے (شاید سبقت لسانی کی وجہ سے) ایک ایسا فیصلہ کہہ جاتے ہیں جو مبالغے کے سارے حدود پار کرگیا تھا – نعوذ باللہ من ذلک
ڈر اور خوف کیا کیا کراتا ہے انسان سے، حیف

آئیے ذرا پیچھے چلیں، تاریخی ابواب کی جانب
تار سے تار جوڑنے کی کوشش کریں….

مجھے یاد آرہا ہے….. غالباً وہ بارہویں یا تیرہویں صدی تھی، برفیلے میدانوں سے ایک قدرے وحشی قوم اٹھی تھی، کہتے ہیں کہ اس کے پاس نہ علم تھا، نہ ثقافت، نہ تمدن، نہ حکمت –
ان کا کل سرمایہ ان کی طاقت تھی
اور اسی طاقت کے بل بوتے اس قوم کے لوگوں نے عرب کے ریگستانوں اور دریاؤں کو انسانی خون سے سرخ کر دیا تھا-
تاریخ اس قوم کو ‘تاتاریوں’ کے نام سے جانتی ہے
ویسے تو انسانی تاریخ میں ہمیشہ فاتح قوموں کا ایک مذہب ہوتا ہے، تمدن ہوتا ہے، تہذیب ہوتی ہے لیکن یہ کیسے فاتحین تھے جن کا اپنا نہ کوئی مذہب تھا، نہ تمدن اور نہ کلچر
ایسا واقعہ تاریخ میں صرف ایک بار ہی ہوا ہے، نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ پھر کبھی وقوع پزیر ہونے کی امید ہے
کہتے ہیں کہ فتح کے بعد تاتاری اسلام میں داخل ہوگئے تھے-
میں اس زمانے کی سرپھری مسلم جماعت کو سلام پپیش کرتا ہوں! کیا دماغ رہے ہوں گے ان کے، کہ جن کے اردگرد ان کی قوم کی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کیے گئے تھے، گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روندے گیا تھا، وہی مفتوح جماعت فاتحین کا دل جیتنے اور دل پھیرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے

دوسرا باب انگریزی اقتدار کا دیکھیں
انگریز یہ ابھی انیسویں اور بیسویں صدی میں ایک دشمن بن کر ابھرا تھا، جو ہر قسم کی تیاری سے آیا تھا، اس کے پاس تہذیب بھی تھی, تمدن بھی اور وہ ایک نیا ہتھیار قانون بھی رکھتا تھا، عیار بلا کا تھا، لگ بھگ پورے قدیم ہندوستان کو اس نے غلام بنا لیا تھا اور عرب دنیا پر بھی نظریں جمائی ہوئی تھیں، پھر بھی لیکن اسے یہ اندازہ تھا کہ اس عروج کو زوال بھی آنا طے ہے، لہذا وہ اپنے زوال کو بھی عروج کے پردے میں چھپانا چاہتا تھا، بلا واسطہ نہیں تو بالواسطہ ہمیں غلام بنائے رکھنا چاہتا تھا اور ہم پر حکومت کرنا چاہتا تھا…….. کیونکہ
وہ تاتاریوں کے حالات سے واقف تھا، اس لئے اس نے اس قوم سے اسکا اصل وصف باہمی محبت اور رواداری چھیننے کی تیاری کی اور جاتے جاتے وہ بٹوارے اور اس طرح کی دیگر قومی ریاستوں کے تصور کو اس انداز میں لوگوں کے دماغ میں پیوست کرنے میں کامیاب ہوا کہ آج تک یہ قوم اپنی موت آپ مر رہی ہے

ہندوستان کے لوگوں کو ہندو مسلم میں بانٹ کر جہاں بٹوارے کا درد دیا گیا وہیں مصریوں کو کہا گیا کہ تمہاری تہذیب فرعون کے زمانے کی ہے، عربوں کو یاد دلایا کہ تمہاری تاریخ تو 571 عیسوی سے پہلے کی اصل تاریخ ہے

تمام نے راضی بارضا اپنی ثقافت کو ان فرعونوں سے جوڑنا شروع کر دیا اور آزادی مانگنے کے ایک نئے کام پر لگ گئے-
لیکن اس پُر فریب زمانے میں ایک سرپھری جماعت ہے، جو انگریزی مشن پر بدستور کام کر رہی ہے جو کبھی مسلمانوں کو گھر واپسی کے نام پر اپنا بنانا چاہتی ہے اور کبھی مولاناؤں کی زبانی اناپ شناب بکوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے

آئیے غور کریں مذکور بالا ویڈیو کلپ کے اس جملے پر جو دشمن ہم سے بلوانے میں کامیاب ہوگیا اور یہ بھی سوچیں کہ کیا آج ہمارے حالات اس جماعت سے بھی گئے گزرے ہیں جو تاتاریوں کا دل جیتنے اور پھیرنے میں کامیاب ہوگئی تھی؟

خدارا دشمن کے دیئے ہوئے کام میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس کام کو بجا لانے کے پھر سے پابند عہد ہو جائیے، جس کا وعدہ ہم کر چکے ہیں
ڈر اور خوف سے آگے کی جو زیست ہے اس سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں
بڑا لطف آئے گا، یقین جانیں

سوچیں کتنی مہربان ہے وہ پاک ذات جو ہمیں ان بدترین حالات کے باوجود برداشت کر رہی ہے، ورنہ وہ تو اس بات پر بہت قادر ہے کہ اپنی زمین کو ہم سے پاک کر دے اور ہماری جگہ ہم سے بہتر لوگوں کو لے آئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *